محبت انسان کے اندر ایسے اُجالے کی طرح اُترتی ہے
کہ پھر اُسے دنیا کی ہر شے میں حسن دکھائی دینے لگتا ہے۔
،وہ انسان کو سنوارتی ہے، اور چیزوں کو خوبصورت نہیں نگاہ کو خوبصورت بناتی ہے۔
مگر ضد اور ہوس وہ دھواں ہیں
جو محبت کو اپنی ملکیت سمجھ کر جلا دیتے ہیں۔
ہوس کہتی ہے
“یہ میرا حق ہے—اسے چھین لو۔”
اور محبت مسکرا کر کہتی ہے
اگر یہ تمہارا نہیں، تو اسے آزاد کر دو
کیونکہ جسے تم محبت میں قید کر لو
وہ تمہارا ہو سکتا ہے، مگر محبت نہیں رہتا۔
(راست)

0 Comments:
Post a Comment